A Rebellion in Kabul-History of Afghnistan part 3

A Rebellion in Kabul-History of Afghnistan part 3

A Rebellion in Kabul-History of Afghnistan part 3

آج بھی تصویروں میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ قلعہ بالا حصار کی محض بیرونی دیواریں ہی رہ گئی ہیں۔ اصل قلعہ اب نہیں رہا۔ بہرحال بالا حصار کو تباہ کر کے جنرل رابرٹس اپنی فوج کے ساتھ شیرپور کنٹونمنٹ میں منتقل ہو گئے۔ کنٹونمنٹ کے گرد چار کلومیٹر لمبی حفاظتی دیوار اور مورچے وغیرہ بھی بنائے گئے۔ اس دور میں یعنی ایٹین سیونٹی نائن میں مشین گنز بھی جنگوں میں استعمال ہونے لگی تھیں۔ برطانوی فوج بھی اپنے ساتھ ایک مشین گن لائی تھی جسے “گیٹلنگ گن” کہا جاتا تھا۔

گیٹلنگ گن انیسویں صدی، نائنٹینتھ سنچری کے خطرناک ہتھیاروں میں شمار ہوتی تھی۔ انگریزوں کے پاس کئی گیٹلنگ گنز تھیں جنہیں شیر پور چھاؤنی میں نصب کر دیا گیا۔ یوں شیرپور چھاؤنی کی شکل میں برطانوی فوج کو ایک محفوظ قلعہ مل گیا۔ تاہم جب برطانوی فوج شیرپور چھاؤنی کے حفاظتی انتظامات بہتر بنانے میں لگی تھی تو ادھر کابل میں چپکے چپکے مزاحمت کی تیاری ہو رہی تھی۔ اس مزاحمت کا ہیڈکوارٹر ایک مسجد میں تھا۔

یہ کابل کی پُل خشتی مسجد ہے جس کی شناخت اس کا خوبصورت نیلا گنبد ہے۔ یہ مسجد اٹھارہویں صدی، ایٹینتھ سنچری میں تعمیر کی گئی تھی اور پھر افغان بادشاہ ظاہر شاہ کے دور میں انیس سو ساٹھ کی دہائی نائنٹین سکسٹیز میں اسے موجودہ شکل دی گئی تھی۔ اٹھارہ سو اناسی، ایٹین سیونٹی نائن میں بھی یہ مسجد موجود تھی اور انگریزوں کے خلاف مزاحمت کا سب سے بڑا مرکز تھی۔ دن بھر میں یہاں ہزاروں نمازی آتے لیکن عبادت کے ساتھ وہ انگریزوں کے خلاف بھی صلاح مشورے کرتے۔

پھر یہ نمازی کابل کے گلی کوچوں میں پھیل جاتے اور باقی لوگوں کو بھی انگریزوں کے خلاف بھڑکاتے۔ ادھر کابل میں یہ سلسلہ جاری تھا۔ تو دوسری طرف باقی افغانستان میں دو طاقتور لوگ جگہ جگہ جا کر لوگوں کو فرنگیوں کے خلاف جہاد کی ترغیب دے رہے تھے۔ ان میں پہلی شخصیت تھے افغان توپخانے کے سابق کمانڈر محمد جان اور دوسرے تھے ایک نوے سالہ عالمِ دین ملا مشکِ عالم۔ غزنی سے تعلق رکھنے والے یہ عالمِ دین انتہائی بڑھاپے میں بھی جوانوں کی طرح ایکٹو تھے۔

انہوں نے افغانستان کے کئی صوبوں کا سفر کیا۔ وہ جہاں جاتے مسجد میں کھڑے ہو کر جہاد کے حق میں پُرجوش خطبے دیتے۔ یہ خطبے سن کر لوگ جوق درجوق ان کے پاس آنے لگے دیکھتے ہی دیکھتے مُشکِ عالم اور محمد جان کے پرچم تلے ہزاروں لوگ جمع ہو گئے۔ افغان صوبوں وردک، لوگر اور کپیسا میں بھی بڑے بڑے قبائلی لشکر جمع ہونا شروع ہو گئے۔ پھر ان لشکروں نے انگریزوں پر بڑے بڑے حملے شروع کر دیئے۔ کابل کے قریب ٹیلیگراف کی تاریں کاٹ کر انگریز فوج کا ہندوستان سے رابطہ بھی توڑ دیا گیا۔

اس کے بعد افغانستان میں مختلف جگہوں پر تعینات چھوٹے چھوٹے برطانوی دستوں پر بھی حملے ہوئے۔ ان حملوں میں بہت سے برطانوی اور ہندوستانی فوجی مارے گئے یا فرار ہو گئے۔ ان کارروائیوں کے بعد ساٹھ ہزار افغانوں کا ایک لشکرِ جرار کابل پر قبضے کیلئے چل پڑا۔ کابل میں پہلے ہی بغاوت کی فضاء بن چکی تھی اور عام شہری اس لشکر سے مل کر انگریزوں کا خاتمہ کرنے کیلئے بے چین تھے۔ افغانوں کی اتنی زیادہ تعداد کے سامنے جنرل رابرٹس کے پاس صرف سات ہزار فوج تھی۔ اس فوج کے ساتھ جو ہوا، یہ اس سے پہلے صرف کہانیوں میں ہوا کرتا تھا۔ ہوا یہ دوستو کہ پہلے تو افغان لشکر نے کابل پر باآسانی قبضہ کر لیا۔

جنرل رابرٹس نے اپنے کچھ فوجی دستوں کو ان سے مقابلے کیلئے بھیجا مگر افغانوں کے اتنے بڑے لشکر کے سامنے ان مٹھی بھر انگریزوں اور ہندوستانی سپاہیوں کی ایک نہ چلی۔ دونوں لشکروں میں کچھ جھڑپیں ہوئیں لیکن انگریزوں کو ہر بار مار کھا کر پیچھے ہٹنا پڑا۔ ان جھڑپوں کے دوران افغانوں نے انگریزوں کی چار توپیں بھی چھین لیں۔ آخر پوری برطانوی فوج شیرپور چھاؤنی میں اپنی دفاعی لائن کے پیچھے پناہ لینے پر مجبور ہو گئی۔ افغان لشکر نے کابل پر قبضہ کر لیا اور کابل کے شہری بھی ان سے آ ملے۔

حصّہ چہارم