A Rebellion in Kabul-History of Afghnistan part 5

A Rebellion in Kabul-History of Afghnistan part 5

A Rebellion in Kabul-History of Afghnistan part 5

جب جنرل رابرٹس نے محسوس کیا کہ دشمن کمزور پڑ رہا ہے تو انہوں نے اپنے گھڑسوار دستوں کو چھاؤنی سے باہر نکل کر افغانوں پر حملے کا حکم دیا۔ جیسے ہی گھڑسوار دستوں نے حملہ کیا افغان جنگجو بھاگ نکلے۔ برطانیہ کا دعویٰ ہے کہ اس لڑائی میں اس کے صرف اٹھارہ جوان ہلاک ہوئے جبکہ تین ہزار سے زائد افغان جنگجو مارے گئے۔ شاید جانی نقصان کا اتنا بڑا فرق اس وجہ سے تھا کیونکہ برطانوی فوجی اپنے مورچوں میں افغانوں کی فائرنگ سے محفوظ تھے۔ ان کی جدید بندوقوں کی رینج بھی افغانوں کی پرانی جزایل بندوقوں سے زیادہ تھی۔

پھر برطانوی فوج نے مشین گنز بھی استعمال کیں جس سے افغانوں کا بھاری جانی نقصان ہوا اور انگریز اس ہتھیار کے عادی نہیں تھے۔ اس لڑائی میں برطانوی فوج نے افغانوں سے بہت سی توپیں چھین لیں۔ حملے میں مارے گئے انگریز فوجیوں کو شیرپور چھاؤنی میں ہی دفن کر دیا گیا۔ بعد میں دیگر لڑائیوں میں مارے جانے والوں کو بھی یہاں لا کر دفن کیا جاتا رہا۔ یعنی جو لوگ شیرپور چھاؤنی کی لڑائی میں مارے گئے تھے ان کے علاوہ بھی کئی لوگوں کو یہاں دفن کیا گیا۔

یہ قبرستان آج بھی افغانستان میں اسی جگہ موجود ہے۔ برطانوی فوج کے ساتھ کام کرنے والے کچھ سویلنز بھی یہاں دفن ہوئے۔ آج اس عمارت کو شیرپور چھاؤنی ہیں بلکہ برٹش سیمیٹری کہتے ہیں۔ مقامی لوگوں میں یہ عمارت قبرِ گورا یا گوروں کا قبرستان کے نام سے مشہور ہے۔ اس کے سرسبز صحن میں درختوں کے سائے تلے دو سو کے قریب لوگ ابدی نیند سو رہے ہیں۔ افغانستان پر امریکی قبضے کے بعد غیرملکی فوجی اکثر اس جگہ کا وزٹ کرتے تھے۔

تو دوستو شیرپور چھاؤنی کی تقریباً ناقابلِ یقین جنگ برطانوی فوج نے جیت لی تھی۔ اس پر برطانوی پریس میں ایک کارٹون شائع ہوا کہ برطانیہ شیر کے روپ میں تنِ تنہا افغانوں کا مقابلہ کررہا تھا جو بھیڑیوں کے روپ میں تھے۔ شیرپور کنٹونمنٹ کی جنگ انگریزوں کی فیصلہ کُن فتح تھی۔ وہ اس طرح کہ اس کے بعد افغانوں کا مرکزی لشکر جو کہ زیادہ تر عام قبائلیوں پر مشتمل تھا بری طرح منتشر ہو گیا۔ زیادہ تر قبائلی اپنے اپنے علاقوں کو لوٹ گئے۔

دیکھتے ہی دیکھتے مزاحمت کاروں کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ گئی۔ محمد جان اور مُشکِ عالم بھی کہیں روپوش ہو گئے اور دوبارہ انگریزوں کے خلاف کوئی مزاحمت نہیں کی۔ یعنی افغانوں کی بغاوت وقتی طور پر دم توڑ گئی۔ جنرل رابرٹس نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھایا اور کابل شہر پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ انہوں نے ہندوستان کے ساتھ ٹیلیگراف کا رابطہ بھی بحال کر لیا اور اپنی سپلائی لائن کو بھی بہتر بنا لیا۔ یوں افغانستان میں انگریزوں کے اکھڑتے ہوئے قدم دوبارہ مضبوط ہو گئے۔

تاہم دوستو اس ناکام بغاوت نے بھی برطانیہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ برطانوی پبلک برطانوی فوج پر بڑھتے ہوئے حملوں کی وجہ سے اس جنگ کے خلاف ہو گئی تھی۔ اپریل اٹھارہ سو اسی، ایٹین ایٹی کے جنرل الیکشنز میں برطانوی عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ جنگ کی حامی حکومتی کنررویٹو پارٹی ہار گئی اور اپوزیشن لبر پارٹی کے ولیم ایورٹ گلیڈ اسٹون نئے برٹش پرائم منسٹر بن گئے۔ انہوں نے فوری طور پر افغانستان سے برطانوی فوج کو نکالنے کا فیصلہ کر لیا۔

آپ انہیں آج کے بیک گراؤنڈ میں برطانیہ کا جوبائیڈن بھی کہہ سکتے ہیں۔ یعنی جیسے جو بائیڈن نے افغانستان سے فوج نکالی تو گلیڈ اسٹون بھی ایسا ہی کر رہے تھے۔ ان کے وزیراعظم بنتے ہی ہندوستان میں بھی تبدیلی آ گئی۔ ہندوستان کے وائسرائے لارڈ لیٹن جو جنگ کے حامی تھے وہ مستعفی ہو گئے۔ ان کی جگہ برطانوی حکومت نے جارج رابنسن کو نیا وائسرائے مقرر کر دیا۔ انہیں یہ واضح ہدایات دی گئی تھیں کہ وہ جتنا جلد ممکن ہو برطانوی فوج کو افغانستان سے نکال لیں۔ یوں برطانیہ کا افغانوں کو غلام بنانے کا خواب چکنا چور ہو گیا تھا۔

اب انگریزوں کو ایک ایسے افغان اتحادی کی تلاش تھی جسے وہ کابل کے تخت پر بٹھا کر افغانستان سے اپنی باعزت واپسی کو یقینی بنا سکیں۔ غیر متوقع طور پر انہیں ایک ایسا اتحادی مل بھی گیا۔ اس اتحادی کا نام تھا عبدالرحمان خان انہیں ان کی سخت گیر طبیعت کی وجہ سے تاریخ میں امیرِ آہن یا آئرن امیر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہاں سے دوستو افغانستان میں ایک نئی گیم آف تھرونز شروع ہو گئی۔ اس گیم آف تھرونز کا کیا نتیجہ نکلا؟ سیکنڈ اینگلو افغان وار کا فاتح کون تھا؟ میوند کی ۔۔۔۔۔لڑائی اور میوند کی ملالہ کی کہانی بھی آپ کو دکھائیں گے لیکن ہسٹری آف افغانستان کی اگلی قسط میں۔۔۔

حصّہ اول