Battle of Maiwand - History of Afghanistan p3

Battle of Maiwand – History of Afghanistan p3

Battle of Maiwand – History of Afghanistan p3

جب انگریزوں کو ایوب خان کی پیش قدمی کا علم ہوا تو قندھار سے ایک فوجی دستے کو ان کے مقابلے کیلئے بھیجا گیا۔ پچیس ہزار افغانوں اور ان کی تیس سے زائد توپوں کے مقابلے میں یہ دستہ صرف اڑھائی ہزار جوانوں پر مشتمل تھا جس کے پاس محض چند توپیں تھیں۔ اتنی کم تعداد میں فوجی بھیجے جانے کی وجہ شاید انٹیلیجنس معلومات کی کمی تھی۔ انگریز نہیں جانتے تھے کہ ایوب خان کا لشکر ان سے بہت بڑا ہے۔ مطلب کتنی تعداد میں ہے یہ ان کے علم میں نہیں تھا۔ انہیں افغانوں کی اصل تعداد تب معلوم ہوئی جب ستائیس جولائی اٹھارہ سو اسی،کو میوند کے نزدیک دونوں فوجوں کا سامنا ہوا۔

میوند، قندھار شہر کے شمال مغرب میں تقریباً اسی کلومیٹر دور ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ اسی گاؤں کی مناسبت سے اس جنگ کو میوند کی لڑائی کا نام دیا گیا۔ جب لڑائی شروع ہوئی تو دونوں فوجوں میں طاقت کا فرق جلد ہی نظر آ گیا۔ افغانوں کے پاس چونکہ زیادہ توپیں تھیں چنانچہ انہوں نے شدید بمباری کر کے انگریزوں کے کشتوں کے پشتے لگا دیئے۔ افغان سپاہیوں نے تعداد میں زیادہ ہونے کی وجہ سے جلد ہی انگریز فوج کو گھیرے میں لے لیا۔

پھر افغانوں نے ایک بھرپور حملہ کیا اور برطانوی فوج بھاگ نکلی۔ تقریباً سو کے قریب انگریز بھاگنے کی کوشش میں ایک عمارت میں افغانوں کے گھیرے میں آ گئے۔ افغانوں نے اس عمارت پر دھاوا بول دیا لیکن انگریزوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ دونوں طرف سے گولیاں برسنے لگیں۔ انگریزوں کے ساتھ ایک کتا بھی تھا جس کا نام بابی تھا۔ یہ کتا بھی اس لڑائی میں زخمی ہوا۔ لیکن آخر میں گیارہ، الیون فوجی افغانوں کا گھیرا توڑ کر اس کتے سمیت فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

ان کے علاوہ باقی تمام انگریزوں کو افغانوں نے ہلاک کر دیا۔ میوند کی لڑائی صرف تین گھنٹوں میں ختم ہو گئی تھی۔ اس لڑائی میں برطانوی فوج کو گیارہ سو نو انگریز اور ہندوستانی فوجیوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔ ان میں ہلاکتیں نو سو انہتر، نائن سکس نائن تھیں جبکہ باقی فوجی زخمی تھے۔ برطانیہ کا دعویٰ ہے کہ لڑائی میں تین ہزار سے زائد افغان مارے گئے تھے۔ یعنی انگریز یہ کہتے ہیں کہ شکست کے باوجود انہوں نے دشمن کو تین گنا سے بھی زیادہ جانی نقصان پہنچایا تھا۔

بابی کو بعد میں برطانیہ بھیجا گیا جہاں ملکہ برطانیہ نے اسے میڈل دیا۔ اس کتے کا جسم بھی محفوظ کر لیا گیا تھا جو آج بھی برطانوی علاقے سیلسبری کے ریجمنٹل میوزیم میں موجود ہے۔ اس نے گلے میں وہی میڈل پہن رکھا ہے جو اسے ملکہ وکٹوریہ نے دیا تھا۔ میوند کی لڑائی میں حصہ لینے والے سابق فوجی بعد میں بھی مدتوں تک اس کتے کو دیکھنے آتے رہے اور اس کے ساتھ تصویریں بنواتے رہے۔ بابی کے نام کا یادگاری سکہ بھی جاری کیا گیا۔

میوند کی شکست برطانیہ میں اتنی مشہور ہوئی کہ اس کی جھلک انگلش لٹریچر میں بھی نظر آتی ہے۔ برطانیہ کے مشہور افسانوی جاسوسی کردار شرلاک ہومز کے دوست ڈاکٹر واٹسن کا تعلق بھی میوند کی لڑائی سے جوڑا گیا۔ شرلاک ہومز پر لکھے گئے ناول “اے اسٹڈی اِن اسکارلیٹ” میں ڈاکٹر واٹسن اپنا تعارف یوں کراتا ہے کہ میوند کی لڑائی کے دوران اس کے کندھے میں گولی لگی تھی۔ دوستو میوند کی لڑائی تو ایوب خان نے جیتی تھی اور اس وجہ سے افغانوں نے انہیں غازی ایوب خان کہنا شروع کر دیا۔

لیکن میوند کی لڑائی کو جس ہستی نے تاریخ میں امر کیا وہ ایک غریب لڑکی تھی۔ نام اس کا تھا ملالئی یا ملالہ۔ وہی لڑکی جس کے نام کی مناسبت سے بہت سے پشتون آج بھی ملالہ نام رکھتے ہیں اپنی بیٹیوں کا۔ جیسا کہ مینگورہ کی گلی مکئی، ملالہ یوسف زئی، جنھیں امن کا سب سے بڑا انعام نوبل پرائز بھی مل چکا ہے۔ افغان تاریخ کے مطابق ملالہ ایک ٹین ایج افغان لڑکی تھی جس کا باپ چرواہا تھا۔ ملالہ میوند کے قریب ہی ایک گاؤں میں رہتی تھی۔

جس روز میوند کی لڑائی ہوئی اسی روز ملالہ کی شادی تھی۔ لیکن یہ شادی نہیں ہوئی کیونکہ ملالہ کے والد اور منگیتر اس لڑائی میں افغانوں کی طرف سے لڑے اور مارے گئے۔ ملالہ بھی سینکڑوں افغان خواتین کے ساتھ جنگ میں شریک تھی جو زخمی افغان سپاہیوں کو پانی پلا رہی تھیں۔ لیکن جنگ میں ایک ایسا موقع آیا جب لگا کہ جنگ کا پانسہ انگریزوں کے حق میں پلٹنے لگا ہے۔