Battle of Maiwand - History of Afghanistan p6

Battle of Maiwand – History of Afghanistan p6

Battle of Maiwand – History of Afghanistan p6

کابل کے تخت پر ان کی مرضی کا حکمران بیٹھا تھا افغانستان کی خارجہ پالیسی سمیت موجودہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے کئی علاقے بھی ان کے قبضے میں تھے افغان ہسٹری میں یہ پہلی اور شاید آخری بار تھا کہ کوئی سپرپاور اتنے فیورایبل حالات میں افغانستان سے نکلنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ لیکن اس کامیابی کی انہوں نے بھاری قیمت بھی چکائی تھی ویسٹرن ہسٹورین جوناتھن لی لکھتے ہیں کہ یہ جنگ برطانیہ کی کوئی شاندار فتح نہیں تھی۔ اس لڑائی میں کواگناری اور تین دوسرے برطانوی افسر اپنے محافظوں سمیت مارے گئے تھے۔

شیرپور چھاؤنی پر قبضے کی لڑائی بھی انگریزوں نے بمشکل جیتی تھی۔ اسی طرح میوند کی شکست اور افغانوں کی طرف سے قندھار کا محاصرہ بھی برطانوی فوجی وقار کیلئے بڑے دھچکے تھے۔ اس جنگ کی وجہ سے ہندوستان کے وائسرائے لارڈ لیٹن بھی مستعفی ہونے پر مجبور ہوئے تھے۔ سیکنڈ اینگلو افغان وار نے برطانوی خزانے کے سترہ ملین پاؤنڈز، یعنی ایک کروڑ ستر لاکھ پاؤنڈز بھی نگل لئے تھے یہ رقم جنگ سے پہلے لگائے گئے اندازوں سے تین گنا زیادہ تھی۔ یعنی دیکھا جائے تو یہ جنگ افغانوں اور انگریزوں دونوں کو بہت بھاری پڑی تھی۔

اس جنگ کا سب سے زیادہ فائدہ ہوا جنرل رابرٹس کو۔ قندھار میں شاندار فتح نے انہیں انگریزوں کا ہیرو بنا دیا۔ انہیں برطانیہ میں ملکہ وکٹوریہ نے اپنا خاص مہمان بنایا برطانوی پارلیمنٹ نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہیں اعزازی تلواریں پیش کی گئیں۔ ان کے نام پر ایک فوجی میڈل تیار کیا گیا جسے رابرٹس اسٹار کا نام دیا گیا۔ یہ میڈل ان تمام فوجیوں کو دیا گیا جنہوں نے رابرٹس کے ساتھ کابل سے قندھار کی طرف مارچ کیا تھا۔ حتیٰ کہ جنرل رابرٹس کے گھوڑے کو بھی یہ میڈل دیا گیا یہی نہیں جنرل رابرٹس کو بیرن رابرٹس آف قندھار کا ٹائٹل اور فیلڈ مارشل کا عہدہ بھی ملا۔

انہیں نائنٹینتھ سنچری کے کامیاب ترین برٹشن جنرلز میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ انگریزوں کے افغانستان چھوڑنے کے بعد بھی افغانستان میں حکومت کی لڑائی ختم نہیں ہوئی۔ ایوب خان جو قندھار کی شکست کے بعد ہرات لوٹ گئے تھے وہ نیا لشکر تیار کرنے لگے۔ انگریزوں کے افغانستان سے نکلنے کے چند ماہ بعد یعنی اٹھارہ سو اکیاسی، ایٹین ایٹی ون میں ہی ایوب خان نے قندھار پر دوبارہ حملہ کیا اور اس بار اس پر قابض ہو گئے۔ قندھار کے علماء نے بھی ایوب خان کی حمایت کر دی اور امیر عبدالرحمان کے خلاف فتوے جاری کر دیئے۔

ان فتوؤں میں امیر عبدالرحمان کو انگریزوں کا دوست قرار دیتے ہوئے ان کی حکومت کو ناجائز قرار دیا گیا تھا۔ امیر عبدالرحمان کو جب قندھار کے حالات کی خبر ہوئی تو وہ کابل سے فوج لے کر نکلے اور قندھار پر حملہ کر دیا جبکہ ایک اور لشکر کو انہوں نے شمالی افغانستان کی طرف سے ہرات پر حملے کیلئے بھیج دیا۔ قندھار کے قریب ایوب خان اور عبدالرحمان خان کا سامنا ہوا۔ اس لڑائی میں امیر عبدالرحمان کو فیصلہ کُن فتح حاصل ہو گئی۔ امیر عبدالرحمان کے فوجیوں نے قندھار پر قبضہ کر لیا اور شہر کو جی بھر کر لوٹا۔ اس کے بعد امیر عبدالرحمان کے خلاف فتویٰ دینے والے علماء سے بھی انتقام لیا گیا۔

ان میں سے کچھ علماء جان بچانے کیلئے خرقہ شریف کی عمارت میں پناہ لئے ہوئے تھے۔ آپ جانتے ہیں کہ اس عمارت میں پیغمبرِ اسلام کا ایک چوغہ محفوظ ہے۔ اس لئے افغان اس عمارت کو بہت مقدس سمجھتے تھے۔ علماء کا خیال تھا کہ امیر عبدالرحمان اس مقدس عمارت پر حملہ نہیں کریں گے۔ ان کا خیال غلط تھا۔ امیر عبدالرحمان کے حکم پر افغان سپاہی ان علماء کو گھسیٹتے ہوئے عمارت سے باہر لے آئے۔ پھر افغان امیر نے خود تلوار لے کر ان علماء کے سر قلم کر دیئے۔ اُدھر امیر عبدالرحمان کے بھیجے ہوئے دوسرے لشکر نے ایوب خان کے گڑھ ہرات پر بھی قبضہ کر لیا۔

ایوب خان قندھار میں شکست اور ہرات ہاتھ سے نکلنے کے بعد افغانستان میں نہیں ٹھہر سکے۔ وہ ایران فرار ہو گئے۔ وہاں سے انہوں نے اٹھارہ سو چھیاسی، ایٹین ایٹی سکس میں ایک بار پھر افغانستان میں داخل ہونے کی کوشش کی مگر افغان فوج نے انہیں یہاں بھی شکست سے دوچار کیا۔ ایوب خان ایران لوٹ گئے اور افغانستان کا بادشاہ بننے کی امید چھوڑ دی۔ ایران میں انہیں انگریزوں کا پیغام ملا کہ وہ ہندوستان آ جائیں اور جلاوطنی کی زندگی انگریزوں کی پناہ میں گزاریں ایوب خان نے یہ آفر قبول کر لی، وہ ہندوستان چلے آئے اور اپنی باقی زندگی یہیں گزار دی۔

انیس سو چودہ، نائنٹین فورٹین میں ان کا انتقال ہوا۔ پشاور کے وزیر باغ روڈ پر شیخ حبیب بابا کا مزار ہے۔ اس مزار کے احاطے میں سنگِ مرمر سے بنی اس قبر کے نیچے فاتح میوند ابدی نیند سو رہے ہیں۔ مائی کیوریس فیلوز افغانستان کی گیم آف تھرونز امیر عبدالرحمان نے جیت لی تھی۔ اب کابل کے تخت پر وہ براجمان تھے۔ لیکن یہ تخت ان کیلئے پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کا بستر تھا۔ امیر عبدالرحمان کو جو افغانستان ملا تھا وہ کیاؤس کا شکار تھا۔ کسی علاقے میں مرکزی حکومت کی کوئی رٹ نہیں تھی۔

ہر طرف بغاوتیں اور طاقت کی لڑائیاں جاری تھیں۔ حالت یہ تھی کہ افغانستان کو ایک ملک کے طور پر قائم رکھنا مشکل نظر آ رہا تھا۔ لیکن امیر عبدالرحمان کے پاس ایک فارمولہ تھا جو انہوں نے اٹھارہویں صدی، ایٹینتھ سنچری کے روسی حکمران پیٹر دی گریٹ سے سیکھا تھا۔ یہ فارمولہ انہوں نے افغانستان میں بھی اپلائی کر دیا یہ فارمولہ کیا تھا؟ افغانستان میں ہزارہ قبائل کی نسل کشی کیسے ہوئی؟ کیوں ہوئی اور یہ افغانائزیشن کیا تھی؟ یہ سب آپ کو دکھائیں گے لیکن ہسٹری آف افغانستان کی اگلی قسط میں