Hazara Wars-History of Afghanistan part 1

Hazara Wars-History of Afghanistan part 1

Hazara Wars-History of Afghanistan part 1

امیر عبدالرحمان کے دور میں سزائے موت کا ایک انوکھا طریقہ رائج تھا۔ وہ یہ کہ سزائے موت کے قیدی کو ایک کنویں میں پھینک دیا جاتا تھا۔ یہ کنواں پہلے ہی مجرموں کی لاشوں اور زہریلے کیڑے مکوڑوں سے بھرا ہوتا تھا۔ لاشوں کی بدبو اور کیڑے مکوڑوں کے کاٹنے سے قیدی کا جینا دو بھر ہو جاتا تھا۔ لیکن اسے مرنے نہیں دیا جاتا تھا بلکہ کنویں میں وقفے وقفے سے کھانے پینے کا سامان پھینکا جاتا تھا۔ مقصد صرف یہ ہوتا تھا کہ قیدی اس بدبودار اور زہریلے جانوروں سے بھری دلدل میں ایک تکلیف دہ موت مرے۔

اس انوکھی سزا کے علاوہ سزائے موت کے قیدیوں کے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور انہیں اندھا کرنے جیسے سزائیں بھی عام تھیں۔ کم از کم ایک لاکھ لوگ ان سزاؤں کی وجہ سے موت کے گھاٹ اتار دئیے گئے۔ ان خطرناک سزاؤں کی وجہ سے ملک میں عارضی طور پر جرائم انتہائی کم ہو گئے تھے۔ ایک انگریز ہسٹورین جے سٹیوارٹ لکھتے ہیں کہ اگر طالبان بھی امیر عبدالرحمان کے دور والی سزائیں دیکھ لیتے تو خوف سے کانپ اٹھتے۔ مجرموں اور سیاسی مخالفین کو سخت سزائیں دینے کی وجہ سے ہی امیر عبدالرحمان کو آئرن امیر یا فولادی امیر بھی کہا جاتا تھا۔

ان کے دور میں ویسے تو ان گنت ظلم ہوئے لیکن دو مظالم ایسے تھے جن کے اثرات آج بھی موجود ہیں۔ ان میں پہلا تھا ہزارہ قبائل کی نسل کشی اور دوسرا واقعہ تھا افغانائزیشن۔ یہ دونوں واقعات کیسے ہوئے اور آج کے افغانستان اور پاکستان پر اس کا کیا اثر پڑا؟ مائی کیوریس فیلوز اٹھارہ سو اسی، ایٹین ایٹی میں جب عبدالرحمان خان افغانستان کے امیر بنے تو ان کے سامنے ایک اہم چیلنج تھا۔ چیلنج یہ تھا کہ افغانستان کے درمیانی سینٹرل علاقے ہزارہ جات کو اپنے کنٹرول میں کیسے لایا جائے۔ ہزارہ جات افغانستان کے عین درمیان میں واقع ہیں اور ان میں آٹھ افغان صوبوں کا بہت بڑا علاقہ شامل ہے۔

امیرعبدالرحمان کیلئے ان کی اہمیت اس لئے بھی زیادہ تھی کہ یہ علاقے دارالحکومت کابل کے بہت قریب تھے۔ پھر مغربی اور شمالی افغانستان کو ملانے والے بہت سے اہم پہاڑی درے بھی اسی علاقے میں واقع تھے۔ کابل کی سینٹرل ایشیا اور خاص طور پر بخارا سے زیادہ تر تجارت بھی انہی پہاڑی دروں سے ہوتی تھی جو ہزارہ جات میں واقع تھے۔ یعنی ان علاقوں کی اسٹریٹجک اہمیت بہت ہی زیادہ تھی لیکن مسئلہ یہ تھا کہ یہ علاقے کابل حکومت کے مکمل کنٹرول میں نہیں تھے۔ یہاں ہزارہ قبائل رہتے تھے۔

شیخ علی، بھسود اور دائے زنگی ان کے بڑے قبائل تھے۔ ہزارہ منگولوں اور تاجکوں کی مشترکہ نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ افغان امیر عبدالرحمان لکھتے ہیں کہ افغانوں میں مشہور ہے کہ ہندوستان کی طرف جانے والے حملہ آور لوگوں کو گھر اور زمینیں دے کر یہاں بساتے تھے تاکہ افغانستان تک ان کا راستہ محفوظ رہے۔ اسی وجہ سے منگولوں نے ہزارہ کو افغانستان میں بڑے پیمانے پر آباد کیا تھا۔ ہزارہ افغانستان کے دل میں، سنٹرل افغانستان میں رہتے ہیں دفاعی لحاظ سے سب سے مضبوط وادیاں اور پہاڑیاں ان کے پاس ہیں۔

جس کی بدولت ان کے علاقے ناقابلِ تسخیر ہیں۔ ان کے مطابق ہزارہ قبائل صدیوں سے کابل کے حکمرانوں کیلئے دہشت کی علامت بنے ہوئے تھے۔ حتیٰ کہ عظیم نادر شاہ جنہوں نے افغانستان، ہندوستان اور ایران کو فتح کیا تھا وہ بھی ان مشکل پیدا کرنے والے ہزارہ کو زِیر نہیں کر سکے تھے۔ امیر کے بقول مغل شہنشاہ ظہیرالدین بابر نے بھی لکھا ہے کہ وہ اس طاقتور قوم یعنی ہزارہ سے کھلے میدان میں مقابلہ نہیں کر سکے تھے۔ ہزارہ نسلی اور مسلکی دونوں طرح سے پشتونوں سے مختلف تھے۔ ان کی زبان بھی پشتو نہیں بلکہ فارسی کے دو مقامی لہجے یعنی دری اور ہزارگی تھیں۔

پشتونوں کی اکثریت اہلِ سنت مسلک سے تعلق رکھتی تھی تو ہزارہ میں اکثریت اہلِ تشیع کی تھی۔ ان مسلکی اور نسلی اختلافات نے پشتونوں اور ہزارہ قبائل میں باقاعدہ دشمنی کی فضاء پیدا کر دی تھی۔ اسی دشمنی کی وجہ سے افغانستان کے حکمران جو کہ ظاہر ہے پشتون تھے وہ ہزارہ جات پر فوج کشی کرتے رہتے تھے۔ امیر عبدالرحمان کے دادا دوست محمد نے بھی ہزارہ جات پر حملہ کیا تھا۔ انہوں نے کاکڑ قبیلے کے سردار حاجی خان کاکڑ کو فوج دے کر ہزارہ جات بھیجا تھا۔

حاجی خان نے ایک ہزارہ سردار میر یزدان بخش کو گرفتار کیا اور انہیں زنجیروں میں جکڑ کر اذیتیں دے دے کر مار ڈالا افغان حکومت نے ہزارہ قبائل کی بہت سی زمینیں بھی ضبط کر لی تھیں۔ اپنی زمینیں چھن جانے کے بعد بہت سے ہزارہ قبائلی کابل اور دوسرے شہروں میں محنت مزدوری پر مجبور ہو گئے تھے۔ لیکن ان شہروں میں بھی پشتون ان سے حقارت سے پیش آتے تھے۔ امیر عبدالرحمان لکھتے ہیں کہ افغانستان میں ایک کہاوت مشہور ہے کہ اگر ہزارہ گدھے ہمارے پاس نہ ہوتے تو ہمیں خود گدھوں کی طرح کام کرنا پڑتا۔

یہی وجہ تھی کہ ہزارہ قبائل نے پشتونوں سے مایوس ہو کر مدد کیلئے ایران اور ہندوستان کی طرف دیکھنا شروع کر دیا تھا۔ ہزارہ قبائل نے سیکنڈ اینگلو افغان وار کے دوران بھی انگریزوں کا ساتھ دیا تھا تاکہ وہ انہیں پشتونوں کے امتیازی سلوک سے بچا لیں۔ انہوں نے شیرپور چھاؤنی میں ہونے والی تعمیری کام میں بھی مدد کی تھی۔ شیرپور چھاؤنی، کنٹونمنٹ کی جنگ کی تفصیل آپ سیزن ٹو کی ساتویں قسط میں دیکھ چکے ہیں۔

تو ہزارہ نے انگریزوں کی جو مدد کی تھی اس سے ان کے خلاف پشتونوں میں جو تعصب تھا اس کو اور ہوا ملی تھی۔ مگر پھر بھی انگریزوں کے جانے کے بعد جب امیرعبدالرحمان کو حکومت ملی تو تمام بڑے ہزارہ قبیلوں نے انہیں ہی اپنا امیر تسلیم بھی کیا۔ بدلے میں وہ صرف یہ چاہتے تھے کہ امیر عبدالرحمان ان کے علاقوں میں مداخلت نہ کریں اور صرف ٹیکس وغیرہ لے کر انہیں اپنی مرضی سے اپنی روایات کے مطابق جینے دیں۔