Hazara Wars-History of Afghanistan part 2

Hazara Wars-History of Afghanistan part 2

Hazara Wars-History of Afghanistan part 2

تو دوستو ہزارہ قبائل تو مطمئن ہو گئے کہ امیرعبدالرحمان کی بیعت کرنے کے بعد اب انہیں کوئی پریشانی نہیں ہو گی لیکن ان کی یہ خوش فہمی جلد دور ہو گئی۔ امیرعبدالرحمان کو بھی اپنے دادا دوست محمد کی طرح ہزارہ سے نفرت تھی۔ انہوں نے ہزارہ قبائل پر ایک روسی فارمولہ مسلط کر دیا جس سے تباہی و بربادی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یہ روسی فارمولہ کیا تھا؟ مائی کیوریس فیلوز امیرعبدالرحمان نے روسی قبضے والے سمرقند میں تقریباً دس، بارہ برس گزارے تھے۔

وہ روس کے شہنشاہوں سے جو کہ زارِ روس کہلاتے تھے بہت متاثر تھے خاص طور پر اٹھارہویں صدی، ایٹینتھ سنچری کے روسی شہنشاہ پیٹر دی گریٹ تو ان کے آئیڈیل تھے۔ روسی نظامِ حکومت سے امیرعبدالرحمان نے یہ سبق سیکھا تھا کہ تمام اختیارات صرف بادشاہ کے ہاتھ میں ہونے چاہئیں، قبائلی سرداروں کے ہاتھ میں نہیں۔ اسی روسی فارمولے کے ساتھ وہ سمرقند سے افغانستان لوٹے تھے۔ یہاں پہنچتے ہی انہوں نے قبائلی سرداروں اور مقامی علماء کی طاقت ختم کرنے کی کوششیں شروع کر دیں تاکہ تمام اختیارات صرف ان کے قبضے میں رہیں۔

انہوں نے اپنے مخالف مہمند، شنواری، غلزئی اور کاکـڑ قبیلوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے ان کے سرداروں کو قتل کیا اور سرداروں کی اولادوں کو جلاوطن کر دیا۔ ان کی زمینیں اور ٹائٹلز چھین کر اپنے وفاداروں میں تقسیم کر دیئے۔ شمالی افغانستان کے علاقے ترکستان ریجن میں تو اتنے مظالم ڈھائے گئے کہ برطانیہ اور روس بھی چیخ پڑے۔ ملکہ وکٹوریہ نے امیر کے اقدامات پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ دوسری طرف روس نے جنگ کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ ہندوستان میں برطانوی وائسرائے “ہنری لینز ڈاؤن” نے امیر عبدالرحمان کو خط لکھ کر ان مظالم کو مہذب اقوام کی روایات کے خلاف قرار دیا۔

اس پر امیر نے وائسرائے کو جوابی خط لکھ کر کہا کہ آپ مجھ سے ایک ڈکٹیٹر کی طرح بات کر رہے ہیں اور افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں یہ بند کیجئے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی لکھا کہ وہ روسی شہنشاہ پیٹر دی گریٹ کی طرح لاقانونیت میں رہنے والے لوگوں کو نئے قانون کے دائرے میں لا رہے ہیں۔ یوں امیر عبدالرحمان برطانیہ اور روس کے احتجاج کو مسترد کر کے سرداروں کے خلاف اپنی کارروائیاں کرتے رہے۔ سرداروں کی طاقت توڑنے کیلئے انہوں نے افغانستان کی پرانی قبائلی فوج کو جو سرداروں کے ماتحت ہوتی تھی ختم کر دیا۔

اس کی جگہ جدید مغربی بنیادوں پر یعنی برطانیہ اور روس وغیرہ کی طرح فوج بھرتی کی گئی۔ اس فوج کے افسر کسی قبائلی وابستگی کی وجہ سے نہیں بلکہ قابلیت کا امتحان دے کر فوج میں آتے تھے۔ یوں یہ فوجی افسر سرداروں سے زیادہ امیر کے وفادار رہتے تھے۔ اس فوج کو برطانیہ سے ملنے والے جدید بندوقوں اور مشین گنز وغیرہ سے لیس کیا گیا۔ یوں قبائلی سرداروں کے مقابلے میں امیر کی طاقت میں بے حد اضافہ ہو گیا۔ سرداروں کے بعد جو طبقہ امیر کیلئے خطرہ بن سکتا تھا وہ تھا افغانستان کے مُلا یا علماء کا طبقہ۔

افغان معاشرے میں مقامی علماء کا بہت کردار تھا، آج بھی ہے۔ بعض لوگ تو سرداروں سے زیادہ انہیں فالو کرتے تھے۔ جنگ کے دنوں میں جہاد کے فتوے یہی لوگ جاری کرتے تھے۔ حکمران بھی ان کے فتوؤں سے خوفزدہ رہتے تھے۔ امیرعبدالرحمان ملاؤں کو جاہل ڈکٹیٹر کہا کرتے تھے۔ انہوں نے علماء کے وظیفے بند کر دیئے۔ افغانستان کے مشہور بزرگ عالمِ دین ملا مُشکِ عالم جو سیکنڈ اینگلو افغان وار کے ہیرو تھے انہیں بھی قتل کروا دیا گیا۔ بعد میں ان کی لاش بھی قبر سے نکال کر جلا دی گئی۔ اس کے علاوہ افغانستان میں زکٰوۃ اور عشر کا نظام بھی ختم کر دیا گیا کیونکہ یہ نظام علماء کے زیرِ اثر تھا۔

علماء یہ طے کرتے تھے کہ زکٰوۃ اور عشر کے تحت کون کتنا ٹیکس دے گا۔ تو علماء کو کمزور کرنے کیلئے زکٰوۃ و عشر ختم کر کے ایک نیا ٹیکس ’سیہ کوٹ‘ نافذ کر دیا گیا۔ اس نظام کے تحت ہر قسم کی آمدنی اور زرعی پیداوار کا تیسرا حصہ ٹیکس کے طور پر وصول کیا جاتا تھا۔ امیر نے اوقاف کی تمام آمدنی بھی سرکاری کنٹرول میں لے لی۔ یعنی تمام مذہبی عمارتیں، بزرگانِ دین کے مزار وغیرہ جہاں لوگ جاتے تھے اور چڑھاوے چڑھاتے تھے انہیں حکومتی کنٹرول میں لے لیا گیا۔ ان میں مزار شریف کا حضرت علی مزار جو شاہِ مرداں مزار بھی کہلاتا ہے وہ بھی شامل تھا۔

اس مزار پر ایک سو بیس، ون ٹوئنٹی گارڈینز تھے جو انصاری کہلاتے تھے۔ یہ لوگ کئی نسلوں سے اس مزار کی نگہبانی کر رہے تھے انہیں کابل لے جا کر عوام کے سامنے انتہائی بے دردی سے دو ٹکڑوں میں چیر دیا گیا۔ اس قسم کی کارروائیوں سے علماء کی طاقت ختم ہو گئی اور صرف ایسے درباری علماء باقی بچے جو امیر کے ہر حکم پر سرِ تسلیم خم کرتے تھے۔ امیر عبدالرحمان نے پورے ملک میں جاسوسی کا ایک زبردست نیٹ ورک بھی قائم کیا تاکہ انہیں اپنے ہر دوست اور دشمن کی مکمل خبر رہے جاسوسی کا یہ نظام بہت مضبوط تھا۔

حصہ سوم