Hazara Wars-History of Afghanistan part 3

Hazara Wars-History of Afghanistan part 3

Hazara Wars-History of Afghanistan part 3

افغان عوام اپنے گھروں میں بھی امیر کے خلاف بات کرتے ہوئے ڈرتے تھے کہ کہیں ان کا کوئی رشتے دار ہی ان کی جاسوسی نہ کر دے۔ تو یوں دوستو امیرعبدالرحمان نے اپنے مقابلے میں قبائلی سرداروں اور علماء کی طاقت کو ختم کرنے کے بعد تمام حکومتی اختیارات اپنے قبضے میں لے لیے۔ ان کے طرزِ حکومت پر ایک مورخ نے طنزاً لکھ تھا کہ ’افغانستان میں حکومت کا مرکز امیر کا بیڈروم تھا‘۔ یعنی وہی آل اِن آل تھے۔ لیکن افغان امیرعبدالرحمان نے اپنی زندگی میں ہی یہ وضاحت کر دی تھی کہ وہ تمام اختیارات اپنے قبضے میں کیوں لے رہے تھے وہ اپنی آٹوبائیوگرافی میں لکھتے ہیں کہ ہر مذہبی رہنما، ملا اور قبیلے کا سردار خود کو بادشاہ سمجھتا تھا۔

دو سو برس سے کسی افغان امیر نے ان کی طاقت کو ختم نہیں کیا تھا۔ افغان ترکستان ریجن اور ہزارہ کے میر اور غلزئی قبائل کے چیف امیر سے بھی زیادہ طاقتور ہو گئے تھے۔ جب تک یہ لوگ حکمران ہوں، تب تک بادشاہ پورے ملک میں انصاف قائم نہیں کر سکتا۔ بہرحال دوستو یہ وہ حالات تھے جن میں ہزارہ قبائل اور امیر عبدالرحمان آمنے سامنے تھے۔ ہزارہ قبائل کی طاقت ختم کرنے کی ایک وجہ تو وہی تھی کہ امیر عبدالرحمان باقی قبائل کی طاقت کو بھی توڑ رہے تھے دوسرا یہ کہ انہیں ہزارہ قبائل سے ایک پرانا حساب بھی چُکتا کرنا تھا۔

ہزارہ قبائل نے ماضی میں سابق افغان امیر شیرعلی کا ساتھ دیا تھا جس کی وجہ سے عبدالرحمان خان کو افغانستان سے فرار ہونا پڑا تھا۔ وہ کافی عرصہ جلاوطن رہے، اور روسی اثر میں رہے تھے۔ تو اب امیر بننے کے بعد عبدالرحمان خان، ہزارہ قبائل کو شیرعلی کی مدد کا مزہ بھی چکھانا چاہتے تھے۔ تو یہ دونوں وجوہات امیرعبدالرحمان کو ہزارہ کے مقابلے پر لے آئیں۔ امیر نے پہلے تو یہ کیا کہ ہزارہ قبائل پر سولہ قسم کے الگ الگ ٹیکسز عائد کر دیئے۔ اس کے ساتھ ہی انہیں معمولی معمولی باتوں پر جرمانے بھی کرنے لگے۔

ہزارہ قبائل میں سنی مائنارٹی کو شیعہ میجورٹی کے خلاف ابھار کر فسادات کروائے گئے۔ ان فسادات کے بعد ہزارہ قبائل پر پھر بھاری تاوان ڈال دئیے گئے۔ ہزارہ قبائل کے سرداروں اور علماء کو قید اور جلاوطنی کی سزائیں بھی دی جانے لگیں۔ کئی برس تک اس طرح ہزارہ قبائل کو تنگ کرنے کے بعد امیر نے ایک اور قدم اٹھایا۔ انہوں نے بہت سے پشتون کمانڈرز کو بڑے بڑے فوجی دستوں کے ساتھ ہزارہ علاقوں میں تعینات کرنا شروع کر دیا۔ ان کمانڈرز میں سے کئی امیرعبدالرحمان کے کزنز تھے۔ ان لوگوں نے اپنے فوجیوں کی مدد سے مقامی آبادی پر مشق ستم کس لی۔

افغان ہسٹورین سید عسکر موسوی نے اپنی کتاب ’دا ہزاراز آف افغانستان‘ میں ہزارہ پر ہونے والی مظالم کی تفصیلات لکھی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ سرکاری فوجیوں کو کھلی چھوٹ دی گئی تھی کہ وہ اسلحہ واپس لینے کے نام پر جسے چاہیں گرفتار کریں یا اس پر تشدد کریں۔ یہ چھوٹ ملنے کے بعد افغان فوجیوں نے بہت سے ہزارہ قبائلیوں کو قتل کیا یا بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ ایک افغان کمانڈر فرہاد خان نے ایک موقع پر چھے لوگوں کو قتل کیا اور ان کی لاشیں ایک درخت سے لٹکا دیں۔

ایک اور موقع پر اسی کمانڈر نے چار لوگوں کو گھوڑوں سے باندھ کر گھسیٹا جس سے ان کی کھال ادھڑ گئی۔ سید عسکر موسوی کے مطابق ایک اور موقع پر مبینہ طور پر دو ہزارہ افراد سے کہا گیا کہ وہ اپنی مقدس شخصیات کی شان میں گستاخی کریں۔ جب انہوں نے انکار کیا تو انہیں بھوکے کتوں کے سامنے پھینک دیا گیا۔ ظلم کا ایک اور طریقہ یہ تھا کہ انسان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اس کے لباس میں گرم پتھر رکھ دیا جاتا تھا۔ یا پھر ایک بلی چھوڑ دی جاتی تھی۔ پھر اس بلی کو اوپر سے مارا جاتا تھا تاکہ وہ غصے میں آ جائے اور اپنے پنجوں اور دانتوں سے اس انسان کا جسم بھنبھوڑ ڈالے۔

پشتون کمانڈرز نے مبینہ طور پر ہزارہ خواتین سے زبردستی شادیاں بھی کیں۔ پھر ہزارہ سرداروں اور علماء کی توہین کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ ہزارہ قبائل میں شیعہ میجورٹی اور سنی مائنارٹی کے درمیان فسادات بھی کروائے گئے۔ ان کارروائیوں کے خلاف جب ایک اہم قبیلے شیخ علی ہزارہ نے بغاوت کی تو اس بغاوت کو بھی بے دردی سے کچل دیا گیا۔ گرفتار ہزارہ جنگجوؤں کو جوق در جوق پھانسی گھاٹ پر لے جا کر لٹکا دیا گیا۔ جب ہزارہ قبائل نے دیکھا کہ پشتون کمانڈرز کی زیادتیاں بڑھتی جا رہی ہیں تو وہ کھل کر پشتونوں کے مقابلے پر آ گئے۔

اٹھارہ سو بانوے، ایٹین نائنٹی ٹو میں ایک ایسی بغاوت شروع ہوئی جس نے پورے افغانستان کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس کے بعد پھر ایک مذہبی ٹچ آیا اس نے تو ہزارہ نسل کشی، ہزارہ جینو سائیڈ کی راہ ہموار کر دی۔ یہ مذہبی ٹچ کیا تھا؟ مائی کیوریس فیلوز یہ افغانستان کا صوبہ بامیان ہے یہ صوبہ مکمل طور پر ہزارہ جات میں شامل ہے اور مغربی اور شمالی افغانستان کو جانے والے اہم درے بھی یہاں سے گزرتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ امیرعبدالرحمان بامیان کو ہر قیمت پر اپنے کنٹرول میں لانا چاہتے تھے کیونکہ اس کی اسٹریٹجک اہمیت بہت زیادہ تھی۔

انہوں نے بامیان کے ہزارہ قبائل کو کچلنے کیلئے ایک پشتون سردار عبدالقدوس کو اس علاقے کا گورنر مقرر کر دیا۔ عبدالقدوس ایک ایسا شخص تھا جو نسلی اور مذہبی دونوں بنیادوں پر ہی ہزارہ کا بدترین دشمن تھا۔ یہ شخص ہزارہ قبائل پر ظلم ڈھانے میں ماضی کے تمام گورنرز سے بازی لے گیا۔ عبدالقدوس نے ہزارہ قبائل کے معزز لوگوں کو گرفتار اور قتل کروانا شروع کر دیا۔ مقامی آبادی سے ہتھیار چھیننے کی کوشش کی گئی ان کی خواتین کے ریپ کئے گئے اور حتیٰ کہ ان کے مذہبی عقائد کے خلاف اکثریتی سنی آبادی کے عقائد ان پر ٹھونس دینے کی کوشش کی گئی۔ یعنی زبردستی ان کا مسلک بدلنے کی کوششیں ہونے لگیں۔

حصہ چہارم