Hazara Wars-History of Afghanistan part 5

Hazara Wars-History of Afghanistan part 5

Hazara Wars-History of Afghanistan part 5

پشتونوں نے ہزارہ جات کو غلاموں کی تجارت کا مرکز بنا دیا۔ یہاں سے بڑے پیمانے پر غلام لے جا کر ملک بھر میں بیچے جانے لگے۔ امیر عبدالرحمان نے تو غلاموں کی تجارت پر پہلی بار ٹیکس لگا کر اس تجارت کو قانونی حیثیت بھی دے دی۔ ہزارہ لوگوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح اونے پونے داموں بیچا جانے لگا۔ حد یہ ہو گئی تھی کہ ایک ہزارہ غلام کو محض دس سیر، گندم یا جو کے بدلے خریدا جا سکتا تھا۔ غلاموں کی اس تجارت کا سب سے افسوسناک پہلو یہ تھا کہ حکومتی ٹیکسز اور جرمانوں سے غریب ہونے والے ہزارہ اپنے بیوی بچوں کو خود بطور غلام بیچنے پر مجبور ہو گئے۔

آسٹریلیا کے ایک مقامی اخبار دی آرگس نے بھی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ امیر عبدالرحمان نے بغاوت کے دوران ہونے والی جنگی اخراجات پورے کرنے کیلئے دس ہزار، ٹین تھاؤزنڈ ہزارہ غلاموں کو کابل میں بیچا تھا۔ بغاوت کچلے جانے کے چند ماہ کے اندر اندر یہ صورتحال ہو گئی تھی کہ افغانستان میں ہزارہ کا وجود ہی خطرے میں پڑ گیا تھا حتیٰ کہ ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے بھی یہ بات تسلیم کی کہ افغانستان سے ہزارہ کا وجود مٹنے والا ہے۔ ہزارہ قبائل کو بھی احساس تھا کہ ان کی منظم نسل کشی ہو رہی ہے۔

اگر انہوں نے اپنا وجود برقرار رکھنا ہے اور غلامی سے نجات حاصل کرنی ہے تو پھر سے ہتھیار اٹھانا ہوں گے۔ چنانچہ اٹھارہ سو ترانوے، ایٹین نائنٹی تھری کے شروع میں انہوں نے پھر بغاوت کر دی۔ لیکن اس بار ہزارہ قبائل نے یہ طے کیا کہ وہ امیر عبدالرحمان کو بتائیں گے کہ وہ اس بغاوت پر کیوں مجبور ہوئے۔ باغی سرداروں نے امیر کو ایک خط لکھا۔ اس خط میں انہوں نے بڑے واضح انداز میں لکھا کہ وہ بغاوت پر کیوں مجبور ہوئے۔ انہوں نے لکھا کہ افغان افسروں کی بدسلوکی، بے تحاشہ ٹیکسز، خواتین کی بے حرمتی عام لوگوں کے قتلِ عام اور ان کے گھروں کی تباہی، غلامی، توہینِ مذہب بلاسفیمی کے الزامات اور شیعہ علما کی جگہ سنی علماء کا تقرر اس بغاوت کی وجوہات ہیں۔

انہوں نے یہ بھی لکھا کہ ہمارے جن لوگوں نے پہلی بغاوت کے وقت سرنڈر کر دیا تھا اور حکومت کے وفادار فوجیوں کی حیثیت میں اپنے ہی لوگوں سے لڑے تھے ان پر بھی ظلم ڈھائے جا رہے ہیں۔ اس خط کے آخر میں کہا گیا کہ اپنے بچاؤ اور غلامی سے آزادی کیلئے ہزارہ قبائل حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوئے ہیں۔ عبدالرحمان نے اس خط کا کوئی جواب نہیں دیا اور جنگ کی تیاریوں میں مصروف ہو گئے۔ دوسری طرف ہزارہ باغی بھی سمجھ چکے تھے کہ یہ ان کی بقاء کی آخری جنگ ہے۔ اگر وہ ہار گئے تو ان کا وجود ہی افغانستان سے مٹ جائے گا۔

چنانچہ اس بار انہوں نے آخری گولی اور آخری سپاہی تک جنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ پھر ایک ایسی لڑائی شروع ہوئی جس میں بلامبالغہ کشتوں کے پشتے لگ گئے۔ دوستو باغیوں نے مرکزی افغان فوج کے آنے سے پہلے ہزارہ جات کے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا۔ حکومتی نمائندوں کو ان علاقوں سے نکال دیا گیا۔ کابل جانے والے راستے بھی بند کر دیئے گئے۔ ہزارہ جات میں افغان فوج کے اکثر قلعوں پر قبضہ کر کے وہاں سے ہتھیار بھی لوٹ لئے گئے۔ ان قلعوں کی مدد کیلئے آنے والی امدادی فوجوں کو بھی شکست دی گئی۔

یوں ہزارہ باغیوں نے اپنی پوزیشن کافی مضبوط کر لی۔ اس دوران کابل سے نئی افغان فوج بھی پوری تیاری کے ساتھ ان کے مقابلے پر آ گئی۔ تاہم اس فوج کو تنگ وادیوں اور پہاڑی راستوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ہزارہ باغی بلندی سے ان پر بھرپور حملے کرتے رہے۔ ان حملوں سے افغان فوج کو شدید نقصان پہنچا۔ تاہم تعداد ، نمبرز ایک بار پھر افغان امیر کی فیور میں تھے انہوں نے آخرکار تنگ وادیوں اور پہاڑی راستوں میں باغیوں کا محاصرہ توڑ دیا اور کھلے علاقوں میں آگئے۔ بامیان شہر اور دوسرے کئی اہم علاقوں پر بھی ان کا قبضہ ہو گیا۔

پھر دست بدست لڑائیوں کا نہ ختم ہونے والے سلسلہ شروع ہو گیا۔ ان لڑائیوں میں دونوں طرف سے جو نقصان ہوا اس کا اندازہ یوں لگائیں کہ افغان فوج کی کئی بٹالینز کا صفایا ہو گیا۔ دیگر بٹالینز کو بھی بھاری جانی نقصان پہنچا۔ ہرات کی ایک بٹالین کے پچاسی فیصد جوان مارے گئے۔ ایک بٹالین میں دوستو عموماً ایک ہزار تک فوجی ہوتے ہیں تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ افغان فورسز کے جانی نقصانات کس قدر زیادہ تھے۔

دوسری طرف ہزارہ قبائل کا نقصان یہ تھا کہ ان کے سینکڑوں جنگجوؤں کے سر روزانہ کی بنیاد پر بامیان اور مختلف شہروں میں بھیجے جا رہے تھے۔ یہ سلسلہ مبینہ طور پر کئی مہینوں تک جاری رہا۔ مائی کیوریس فیلوز اس لڑائی کا اختتام یوں ہوا کہ بھاری جانی نقصانات کے باوجود ہزارہ کے جنگجو جیت گئے۔ جی ہاں ہزارہ قبائلیوں کی شدید مزاحمت نے آخرکار امیر عبدالرحمان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ انہوں نے اپنی فوج واپس بلوا لی اور ہزارہ باغیوں کے سبھی مطالبات تسلیم کر لئے۔ یوں اٹھارہ سو ترانوے، ایٹین نائنٹی تھری کے مِڈ تک یہ لڑائی ختم ہو گئی۔

حصہ ششم