Pak-Afghan Border and Durand Line p2

Pak-Afghan Border and Durand Line p2

یہ جو نقشے پر گلگت بلتستان کے اوپر پتلی سی پٹی آپ دیکھ رہے ہیں یہ واکھان کاریڈور ہے۔ یہ پٹی افغانستان کو چین سے ملاتی ہے اور افغان صوبے بدخشاں کا حصہ ہے۔ روس جو اس وقت پورے سینڑل ایشیا پر پھیلا ہوا تھا اس کا اور افغانستان کا بارڈر واکھان سے ہرات تک کھینچا جانا تھا۔ ماضی میں روس کی خواہش رہی تھی کہ بدخشاں اور واکھان کاریڈور کو افغانستان سے الگ کر کے ایک آزاد علاقہ بنا دیا جائے۔ یہ علاقہ آزاد ہو جاتا تو روسی فوج واکھان کاریڈور پر آسانی سے قبضہ کر کے برٹش انڈیا کے بارڈر تک پہنچ سکتی تھی۔

تاہم انگریزوں کو بھی اس بات کا احساس تھا اس لئے انہوں نے واکھان کاریڈور کو روسیوں کے قبضے میں نہیں جانے دیا۔ مگر انہوں نے اسے اپنے کنٹرول میں بھی نہیں لیا۔ حالانکہ واکھان کاریڈور کی کم از کم چوڑائی محض تیرہ، چودہ کلومیٹر ہے۔ اگر یہ علاقہ انگریز اپنے کنٹرول میں لے لیتے تو آج موجودہ پاکستان کا بارڈر تاجکستان یعنی سینٹرل ایشیا تک ہوتا۔ بہرحال انگریزوں کی اپنی مجبوری تھی۔ وہ ہندوستان کے بارڈر کو روس کے ساتھ نہیں ملانا چاہتے تھے۔ اس لئے انہوں نے واکھان کاریڈور کو افغانستان کا حصہ ہی رہنے دیا۔ دوستو اٹھارہ سو تہتر، ایٹین سیونٹی تھری میں انگریزوں اور روس میں ایک معاہدہ طے پایا تھا۔

اس معاہدے کے تحت افغانستان کو برٹش انڈیا اور روسی سینٹرل ایشیا کے درمیان بفرزون تسلیم کیا گیا تھا۔ اس معاہدے کی اہم بات یہ تھی کہ اس میں روس نے واکھان اور بدخشاں کو افغانستان کا حصہ تسلیم کر لیا تھا۔ اسی معاہدے کو سامنے رکھتے ہوئے برطانیہ اٹھارہ سو پچاسی ایٹین ایٹی فائیو کے بعد افغانستان اور روسی سینٹرل ایشیا کا بارڈر طے کروا رہا تھا۔ جس دور میں سرحدی معاہدے کیلئے یہ ساری بات چیت چل رہی تھی تو افغانستان پر روسی جارحیت کا خطرہ مسلسل منڈلا رہا تھا۔ امیر عبدالرحمان مسلسل اس فکر میں تھے کہ اگر بات چیت ناکام ہو گئی اور روس نے حملہ کر دیا تو وہ اس سے کیسے نمٹیں گے؟

اس حوالے سے آخری حل جو ان کے ذہن میں آیا وہ یہ تھا کہ اگر روس کو فتح ملی تو وہ برطانیہ کو افغانستان پر کنٹرول کی دعوت دے دیں گے۔ جس کے بعد وہ برطانوی فوج کے ساتھ مل کر روسیوں سے آزادی کی جنگ لڑیں گے۔ انہوں نے یہ بات اپنی آٹوبائیوگرافی میں بھی لکھی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اگر روس ہرات کو نشانہ بناتا ہے تو جب تک ایک بھی افغان زندہ ہے افغانستان کا ایک انچ بھی روس کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ لیکن اگر افغان روسیوں کو پیچھے دھکیلنے میں ناکام رہے تو افغانستان کو انگلینڈ کے حوالے کر دیا جائے گا تاکہ انگریزوں سے مل کر روسیوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔

لیکن اگر یہ جوائنٹ آرمی روسی فوج کو ہرات اور بلخ سے باہر نہ نکال سکی تو کابل، غزنی اور قندھار کو دوسری دفاعی لائن بنایا جائے گا۔ یہاں سے بھی شکست ہوئی تو پھر کوئٹہ سے پشاور اور چترال تک تیسری دفاعی لائن کھڑی کی جائے گی۔ یعنی افغان امیر الٹا ہندوستان کو افغانستان کی اسٹریٹجک ڈیپتھ سمجھ رہے تھے جیسا کہ ہندوستان افغانستان کو اپنی سٹریٹیجک ڈیپتھ سمجھتا تھا۔ بہرحال دوستو افغان امیر کے خدشات غلط ثابت ہوئے اور برطانیہ کو افغانستان کی غلامی میں دینے کی نوبت ہی نہیں آئی۔ برطانیہ کی سرپرستی میں افغانوں اور روسیوں کے مذاکرات کامیاب ہو گئے۔

اٹھارہ سو ستاسی، ایٹین ایٹی سیون میں روس کے اس وقت کے دارالحکومت سینٹ پیٹرز برگ میں سرحدوں کے حوالے سے ایک معاہدے پر دستخط ہو گئے اس معاہدے کے تحت روس نے سینٹرل ایشیا اور افغانستان کے درمیان بارڈر کو تسلیم کر لیا۔ جو آج بارڈر ہے یہ اسی وقت کا طے شدہ ہے۔ پنج دیہہ کا علاقہ جو روس نے افغانوں سے چھین لیا تھا وہ روسی قبضے میں ہی رہا۔ یوں یہ سمجھوتہ، کمپرومائز ہو گیا۔ سرحدی لکیر کھینچنے کیلئے روسی، برطانوی اور افغان نمائندوں پر مشتمل باؤنڈری کمیشنز پہلے ہی قائم کر دیئے گئے تھے۔

ان کمیشنز نے مغرب میں ہرات سے لے کر شمال مشرق میں دریائے آمو تک سارے علاقے کا جائزہ لیا اور سرحدی لکیر کھینچ دی۔ یوں افغانستان کا یہ شمال مغربی بارڈر طے ہو گیا۔ اب روس چونکہ خود اس بارڈر کو تسلیم کر چکا تھا، اس لیے اس طرف سے افغانستان پر حملے کے امکانات نہ ہونے کے برابرہو گئے تاہم چند برس کے بعد اٹھارہ سو ترانوے، ایٹین نائنٹی تھری میں واکھان اور بدخشاں کی سرحدوں میں معمولی سا ردوبدل بھی کیا گیا۔ اس کے بعد پھر افغانستان اور روس میں کوئی سرحدی جھگڑا نہیں ہوا۔ اس فائنل تبدیلی کے بعد امیر عبدالرحمان نے اپنی بائیوگرافی میں خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے لکھا کہ اس معاہدے کے بعد سے میں اپنے شمال مغربی بارڈر پر ہر طرح کے جھگڑوں اور تنازعات سے محفوظ ہو گیا ہوں آج تک وہاں امن ہے۔

مجھے امید ہے کہ خدا اس امن کو ہمیشہ برقرار رکھے گا تاکہ اس کے انسانی ریوڑ کی زندگیاں محفوظ رہ سکیں۔ انہوں نے روس سے معاہدہ کرانے پر برٹش ایمپائر کا بھی شکریہ ادا کیا کیونکہ اس نے افغانستان کی شمال مغربی سرحدوں کے تعین میں مدد دی تھی۔ امیر عبدالرحمان نے صرف انگریزوں کا شکریہ ہی ادا نہیں کیا بلکہ واکھان کاریڈور کو بھی عارضی طور پر انگریزوں کی حفاظت میں دے دیا۔ اس کی وجہ وہ اپنی آٹوبائیوگرافی میں یہ بتاتے ہیں کہ واکھان کاریڈور باقی افغانستان سے کٹا ہوا تھا اور اس کا دفاع بہت مشکل تھا اس لئے اس کی سیکیورٹی انگریزوں کے حوالے کی گئی تھی۔

Part 3

About Geoharpal