Pak-Afghan Border and Durand Line p3

Pak-Afghan Border and Durand Line p3

یوں دوستو امیر عبدالرحمان نے پہلا چیلنج عبور کر لیا اور روس سے بارڈر طے ہو گیا۔ اب دوسرا اور اس سے بھی بڑا چیلنج ان کے سامنے تھا یعنی برٹش انڈیا کے ساتھ بارڈر طے کرنا۔ اس میں مشکل یہ تھی کہ برٹش انڈیا کے کنٹرول میں بہت سے ایسے علاقے تھے جن پر افغانوں کا اپنا دعویٰ تھا۔ یہ علاقے یعنی موجودہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کا ایک کچھ حصہ جو تھا اس میں شامل تھے اور یہ وہ علاقے تھے جو سکھوں اور انگریزوں نے افغانوں سے تقریباً ایک صدی کے دوران چھینا تھا۔ اب یہ پورا علاقہ برطانوی کنٹرول میں تھا۔ تاہم برطانیہ سے ان علاقوں کی واپسی اس لیے بہت ہی مشکل تھی کہ افغانستان تو خود اپنے دفاع اور اکانومی کے لیے انھی کی مدد لے رہا تھا۔

جیسا کہ وہ اسے روس اور ایران سے بچا رہے تھے۔ پھر افغانستان کی خارجہ پالیسی بھی انگریزوں ہی کے کنٹرول میں تھی۔ برطانیہ افغان امیر کو سالانہ بارہ لاکھ، ون پوائنٹ ٹو ملین روپے امداد بھی دیتا تھا۔ تو ان حالات میں برطانیہ سے کوئی علاقہ لینا ناممکن سا تھا امیر عبدالرحمان یہ سب باتیں جانتے تھے۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وہ یہ ساری پیچیدگیاں اپنی قوم کو نہیں سمجھا سکتے تھے۔ اور پھر وہ افغان عوام جو انگریزوں سے دو جنگیں لڑ چکے تھے ان کی کہانیاں آپ ان اقساط میں دیکھ چکے ہیں۔ عام افغانی یہی سمجھتا تھا کہ انگریز بھی روسیوں کی طرح ان کے دشمن ہیں اور ان کے ملک کو توڑنے کی سازش کر رہے ہیں۔

اس پر مزید یہ کہ امیر عبدالرحمان اپنی قوم سے پورا سچ بولنے کے بجائے الٹا سیاسی مقاصد کیلئے عوامی جذبات کو بھڑک رہے تھے۔ وہ روسیوں کے علاوہ انگریزوں کے خلاف بھی پمفلٹ چھپوا کر عوام میں تقسیم کیا کرتے تھے۔ ان پمفلٹس پر لکھا ہوتا تھا کہ انگریز اور روسی مل کر افغانستان کو توڑنے کی سازش کر رہے ہیں۔ عوام ان کے خلاف جہاد کیلئے تیار رہیں۔ انگریزوں نے انیسویں صدی، نائنٹینتھ سنچری کے آخر میں چمن کے قریب درہ خوجک میں ایک ریلوے ٹنل بھی کھودی تھی اور چمن کو ریلوے لائن کے ذریعے باقی ہندوستان سے ملا دیا تھا۔

جن لوگوں نے پاکستان میں پانچ روپے کا نوٹ دیکھا ہے انہیں یاد ہے تو اس پر خوجک ٹنل کی تصویر بنی ہوتی تھی۔ یہ ریلوے ٹنل انگریزوں نے اپنی فوجوں کی نقل و حرکت کیلئے تعمیر کی تھی۔ انگریزوں نے ماضی میں درہ خوجک کے راستے ہی قندھار پر حملے کئے تھے یہ کہانی بھی آپ اس وڈیو میں جان چکے ہیں۔ یہاں ٹنل بنانے کا مطلب تھا کہ مستقبل میں انگریزوں کیلئے قندھار پر چڑھائی کرنا بہت ہی آسان ہو جائے گا۔ یہی وجہ تھی کہ افغان امیر کہتے تھے کہ درہ خوجک کی ریلوے ٹنل میرے جسم میں خنجر کی طرح اتر چکی ہے۔

امیر عبدالرحمان کی ایسی باتوں سے انھیں عوام میں مقبولیت تو ملتی تھی کہ وہ عالمی طاقتوں کو للکار رہے ہیں۔ لیکن حقیقت ظاہر ہے اس کے برعکس تھی۔ کیونکہ اصل میں تو وہ برطانیہ کے ساتھی تھے۔ انہیں برطانیہ کی اور برطانیہ کو ان کی ضرورت تھی۔ جس کی وجہ آپ ابھی جان چکے ہیں۔ سو ساتھیو امیر عبدالرحمان نے برطانیہ سے معاہدے کے وقت فیس سیونگ کیلئے انگریزوں کو لیٹرز لکھے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ سرحد کا متنازعہ علاقہ یاغستان ان کے حوالے کر دیا جائے۔ اب یہ یاغستان کیا تھا؟ یاغستان کا لفظی مطلب ہے باغیوں کی سرزمین یا ایسے لوگوں کی سرزمین جس پر حکومت کرنا مشکل ہے۔

موجودہ خیبرپختونخوا کے بڑے حصے کو اس وقت یاغستان کہا جاتا تھا۔ ان علاقوں میں وزیرستان کے علاوہ باجوڑ، دیگر قبائلی علاقے، سوات، بونیر، دیر اور چلاس بھی شامل تھے۔ ان علاقوں کو یاغستان کہنے کی وجہ یہ تھی کہ اس نے ہمیشہ بیرونی حملہ آوروں کی مزاحمت کی تھی۔ خاص طور پر وزیرستان جسے بعد میں انگریزوں نے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں تقسیم کیا وہ تو صدیوں سے آزاد چلا آ رہا تھا۔ یہ علاقہ تو افغانستان کا بھی حصہ نہیں رہا تھا۔ مغل بادشاہوں کے دور میں بھی وزیرستان آزاد علاقہ تھا۔ حتیٰ کہ افغانستان کے بانی احمد شاہ ابدالی نے بھی وزیرستان کے اردگرد بہت سے علاقے فتح کر لئے تھے۔

مگر وہ وزیرستان پر کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ صرف داوڑ قبائل کا کچھ حصہ ان کے ہاتھ میں تھا، باقی وزیرستان نہیں۔ احمد شاہ ابدالی کی وفات کے بعد بھی یہ علاقہ افغان کنٹرول سے آزاد ہی رہا تھا۔ تو اب صورتحال یہ تھی کہ انگریزوں نے پنجاب پر قبضہ کرنے کے بعد جب یاغستان میں قدم رکھا تو وزیرستان اور دیگر قبائلی علاقوں میں انہیں بہت ٹف ٹائم ملا۔ سیکنڈ اینگلو افغان وار سے پہلے تک برطانوی فوج وزیرستان سمیت قبائلی علاقوں میں کم از کم چالیس بڑے فوجی آپریشنز کر چکی تھی۔ تاہم ان فوجی کارروائیوں کے باوجود بہت سے قبائلی علاقے عملی طور پر برطانوی رِٹ سے باہر تھے۔

یعنی اس خطے پر حکومت واقعی مشکل کام تھا اس لئے یہ علاقہ یاغستان یعنی باغیوں کی سرزمین کہلاتا تھا۔ افغان امیر عبدالرحمان یاغستان کو افغانستان کا حصہ بنانا چاہتے تھے۔ صرف یاغستان ہی نہیں ہندوستان کے ایک بڑے علاقے کو وہ تاریخی طور پر اپنا حصہ سمجھتے تھے۔ انہوں نے اپنی بائیوگرافی میں لکھا ہے کہ کشمیر اور دوسرے تمام سرحدی اضلاع جو اب برٹش انڈیا کا حصہ ہیں ان پر ان کے پیشرو یعنی پہلے کے افغان امیر حکومت کرتے تھے۔ لیکن پھر انگریزوں نے یہ علاقے چھین لئے۔

Part 4

About Geoharpal