Pak-Afghan Border and Durand Line p4

Pak-Afghan Border and Durand Line p4

گو کہ اب افغان امیر کشمیر کو تو واپس نہیں مانگ رہے تھے لیکن یاغستان کا وہ پورا علاقہ کلیم کر رہے تھے۔ حالانکہ یاغستان میں شامل وزیرستان کبھی افغانستان کا حصہ نہیں رہا تھا، وہ تو آزاد علاقہ تھا۔ مگر پشتون قوم کی وجہ سے وہ اسے بھی اپنا حصہ ہی مانتے تھے۔ اسی طرح بلوچستان کی سرحد کے ساتھ چاغی اور چمن کو بھی افغانستان اپنا حصہ سمجھتا تھا۔ اب یہ وہ حالات تھے دوستو جن میں امیر عبدالرحمان نے ہندوستان کے ساتھ افغان بارڈر کو طے کرنے کا فیصلہ کیا۔ تا کہ اس طرف کی سرحد بھی محفوظ ہو جائے جیسا کہ روس کی طرف کی محفوظ ہو چکی تھی۔

سرحدوں کے تعین کیلئے امیر عبدالرحمان نے برطانوی وائسرائے لینز ڈاؤن کو ایک خط لکھا۔ اس خط میں انہوں نے وائسرائے سے کہا کہ آپ مجھے ایک نقشہ بھیج دیں جس پر یاغستان کے ان تمام علاقوں کو مارک کیا گیا ہو جنہیں آپ اپنے کنٹرول میں لینا چاہتے ہیں۔ اسی نقشے کی بنیاد پر پھر انہوں نے کہا کہ سرحدوں کا تعین کیا جائے گا۔ وائسرائے نے اس خط کے جواب میں سرحدی علاقوں کا ایک نقشہ بھیج دیا جس میں بارڈر کو انگریزوں نے اپنے مطابق مارک کر دیا تھا۔ اس نقشے میں یاغستان کا تمام علاقہ اور بلوچستان میں چاغی اور چمن کو برٹش انڈیا کی حدود میں دکھایا گیا تھا۔

یعنی برطانیہ نے واضح کر دیا تھا کہ وہ متنازعہ علاقے کا ایک انچ بھی افغانوں کے حوالے نہیں کرے گا۔ یہ نقشہ ظاہر ہے افغان امیر کی توقعات کے خلاف تھا۔ وہ تو پورے یاغستان کو افغانستان کا حصہ بنانا چاہتے تھے انہوں نے وائسرائے کو ایک اور طویل خط لکھا۔ افغان امیر نے لکھا کہ اگر یاغستان کے سرحدی قبائل کو میری ریاست کا حصہ بنا دیا جائے تو یہ قبائل میرے پرچم تلے برطانیہ کے ہر دشمن کے خلاف جہاد کریں گے۔ اگر انگریزوں نے یاغستان کو افغانوں کے حوالے نہیں کیا تو اس کا نقصان ہو گا۔ افغان امیر کے مطابق یہاں کے قبائلی ہمیشہ لوٹ مار کر کے انگریز سرکار کی مشکلات میں اضافہ کریں گے۔

خط کے آخر میں امیر عبدالرحمان نے انگریزوں کو اپنی مجبوری بھی بتا دی۔ انہوں نے لکھا کہ یہ قبائلی لوگ میری قوم اور مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر آپ انہیں الگ کر دیں گے تو اس سے میری رعایا کی نظر میں میرا وقار دو کوڑی کا رہ جائے گا۔ اس سے میری حکومت کمزور ہو گی اور میری کمزوری آپ کیلئے بھی نقصان دہ ہو گی۔ وائسرائے کو یہ خط تو مل گیا لیکن انہوں نے یاغستان کو افغانستان میں شامل کرنے کا مطالبہ مسترد کر دیا۔ یہی نہیں بلکہ انگریزوں نے سرحد پر اپنی مرضی کے علاقے حاصل کرنے کیلئے طاقت کا استعمال شروع کر دیا اس دور میں کئی قبائلی علاقے جو پوری طرح برطانوی کنٹرول میں نہیں آئے تھے وہاں ابھی تک افغان افسر تعینات تھے۔

انگریزوں نے ان افسروں کو ڈیڈلائنز دیں کہ اتنے عرصے میں ان علاقوں سے نکل جاؤ ورنہ تمہیں زبردستی نکال باہر کریں گے۔ چنانچہ افغان افسر ان علاقوں سے چلے گئے۔ اس وقت بلوچستان کا علاقہ چاغی بھی افغانوں کے کنٹرول میں تھا اور افغان افسر وہاں بھی تعینات تھے۔ تاہم انگریزوں کی وارننگ ملنے کے بعد افغانوں نے دوسرے علاقوں کے ساتھ چاغی بھی خالی کر دیا۔ متنازعہ قبائلی علاقوں سے افغان افسروں کے انخلاء کے بعد امیر عبدالرحمان انگریزوں کی مرضی کے مطابق بارڈرز طے کرنے پر تیار ہو گئے۔ انہوں نے برطانوی حکومت سے درخواست کی کہ وہ ہندوستان کے سیکرٹری خارجہ سر مورٹیمر ڈیورینڈ کی قیادت میں ایک وفد افغانستان بھیج دیں تاکہ یہ بارڈر طے کیا جا سکے۔

دوستو سر مورٹیمر ڈیورنڈ کے والد ہنری ڈیورنڈ وہ فوجی افسر تھے جنہوں نے پہلی اینگلو افغان وار کے دوران اٹھارہ سو انتالیس، ایٹین تھرٹی نائن میں غزنی کے کابل گیٹ کو بارود سے اڑایا تھا۔ تو اب اسی افسر کے بیٹے سر مورٹیمر ڈیورنڈ برٹش انڈیا اور افغانستان کا بارڈر طے کرنے جا رہے تھے۔ ستمبر اٹھارہ سو ترانوے میں سر مورٹیمر ڈیورنڈ اپنے وفد کے ساتھ کابل پہنچے اور مذاکرات شروع ہو گئے۔ ان مذاکرات میں امیر عبدالرحمان خود بھی شریک تھے۔ جب یہ مذاکرات ہوتے تھے تو پردے کے پیچھے بیٹھا ایک افغان افسر ہر بات کے نوٹس لیتا تھا۔ یہ نوٹس پھر افغان حکومت کے ریکارڈ آفس میں جمع کر دیئے جاتے تھے۔

انہی مذاکرات کے دوران آخرکار برٹش انڈیا اور افغانستان کے درمیان بارڈر طے کر دیا گیا۔ یہ بارڈر چترال میں بروغل پاس سے لے کر بلوچستان میں کوہِ ملک سیاہ تک کھینچا گیا۔ یہ ساری سرحد اس علاقے پر قائم کی گئی تھی جو انگریزوں اور افغانوں کے درمیان متنازعہ رہا تھا۔ لیکن اس کے اوپر واکھان کاریڈور کا کچھ حصہ تھا جو موجودہ گلگت بلتستان کے ساتھ لگتا ہے۔ اس بارڈر پر کوئی تنازعہ نہیں تھا۔ اس لئے جب انگریزوں نے پورے واکھان کاریڈور کو ہی افغانستان کا حصہ مان لیا تو یہ بارڈر خودبخود طے ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی برٹش انڈیا اور افغانستان کا باقی باڈر بھی طے کر کے لائن لگا دی گئی۔ جسے اب ڈیورنڈ لائن بھی کہتے ہیں۔

Part 5

About Geoharpal