Sultan Orhan Gazi | 2nd Sultan of the Ottoman Empire p1

Sultan Orhan Gazi | 2nd Sultan of the Ottoman Empire p1

Sultan Orhan Gazi | 2nd Sultan of the Ottoman Empire p1

عثمان غازی نے اپنی وفات کے وقت اپنے بیٹے اورحان غازی کو اپنا جانشین مقرر کیا تھا۔ اورحان غازی کی عمر اس وقت تقریبا باون سال تھی۔ اور وہ فن سپاہ گری میں عثمان غازی کی زیر نگرانی مہارت اور کمال حاصل کر چکے تھے۔ عثمان غازی کے دوسرے بیٹے علاؤالدین نے اپنا تمام وقت علوم دینیہ کی تحصیل میں صرف کیا تھا۔ تاہم عثمان غازی کی وفات کے بعد اورحان غازی نے سلطنت کو تقسیم کرنے پر آمادگی ظاہر کی لیکن علاؤالدین نے اس سے انکار کر دیا۔ اورحان کے اسرار پر صرف وزارت کا عہدہ قبول کیا سلطنت عثمانیہ کا وزیر بننے کے بعد علاؤالدین نے تین چیزوں پر خاص طور پر توجہ دی سکہ ،لباس، اور فوج ۔

اگرچہ سلطان علاؤالدین سلجوقی کیقباد سوم نے عثمان غازی کو خطبے کے علاوہ اپنے نام کا سکہ جاری کرنے کی بھی اجازت دے دی تھی تاہم عثمان غازی نے صرف خطبے پر ہی قناعت کی تھی اور اپنے نام کا سکہ جاری نہیں کیا تھا اورحان غازی کی تخت نشینی کے وقت تمام ایشیائے کوچک میں صرف سلجوقی سکے ہی رائج تھے اب علاؤالدین نے بادشاہت کے اس امتیاز کو بھی اختیار کیا اور اسلامی مملکت میں اورحان کے نام کے سکے جاری کر دیے اس کے علاوہ علاؤالدین نے رعایا کے مختلف طبقوں کے لیے مختلف قسم کے لباس تجویز کر کے ان کے متعلق قوانین نافذ کر دیے

شہری اور دیہاتی مسلم اور غیر مسلم ہر طبقے کا الگ لباس مقرر کیا لیکن علاؤالدین کا سب سے بڑا کارنامہ وہ فوجی اصطلاحات ہیں جن سے دولت عثمانیہ کی طاقت ایک دم سے بڑھ گئی اور جو تین سو برس تک اس کی حیرت انگیز فتوحات کا ضامن رہیں ارطغرل غازی اور عثمان کے زمانے میں کوئی بھی باقاعدہ فوج نہیں تھی بلکہ یہ دستور تھا کہ جب کوئی جنگ پیش آنے والی ہوتی تو سب سے پہلے یہ اعلان کر دیا جاتا کہ جو شخص لڑائی میں شریک ہونا چاہے وہ فلاں روز فلاں مقام پر حاضر ہو چنانچہ یہ رضاکار سوار مقررہ وقت اور مقررہ مقام پر جمع ہو جاتے اور لڑائی ختم ہونے کے بعد واپس اپنے گھروں کو چلے جاتے

انہیں کوئی تنخواہ نہیں ملتی تھی بلکہ جو مال غنیمت ہاتھ آتا وہی ان کی خدمت کا معاوضہ ہوتا تھا ان کی کوئی مخصوص وردی بھی نہیں تھی بے شک یہ سپاہی اعلی درجے کے شاہسوار ہوتے تھے اور مضبوطی کے ساتھ صف قائم کر کے ایک دیوار کی طرح میدان جنگ میں آگے بڑھتے تھے عثمان غازی کے زمانے تک تو اس طریقے سے کام چلتا رہا لیکن اس کے بعد سلطنت کی توسیع اور استحکام کے لیے یہ نظام ناکافی ثابت ہوا اور ایک باقاعدہ اور مستقل فوج کی ضرورت محسوس ہونے لگی چنانچہ علاؤالدین نے سلطنت عثمانیہ کا وزیر بننے کے بعد تنخواہ دار پیادوں کی ایک فوج مرتب کی جن کا نام پیادے تھا

ان پیادوں کی تنخواہیں بہت ہی زیادہ تھیں لیکن اسے زیادہ روز نہ ہو پائے تھے کہ ان پیادوں میں اپنی قوت کا بے جا احساس پیدا ہو گیا اور ان کی سرکشی خود اورحان غازی کے لیے تشویش کا باعث ہونے لگی چنانچہ اورحان غازی نے ان حالات کو دیکھتے ہوئے علاؤالدین اور کارا خلیل سے مشورہ کیا کارا خلیل جو بعد میں خیر الدین پاشا کے نام سے مشہور ہوئے انہوں نے جو تجویز پیش کی اس نے نہ صرف پیادوں کی طرف سے مطمئن کر دیا بلکہ آئندہ تین صدیوں کے لیے عثمانی فتوحات کی رفتار کو ایک سیلاب کی قوت عطا کیکارا خلیل نے جو تجویز پیش کی تھی وہ یہ تھی کہ عیسائی جنگی قیدیوں میں سے دس بارہ سال کے قوی اور ہونہار لڑکوں کی ایک تعداد منتخب کر کے اسلام میں داخل کی جائے اور پھر باقاعدہ فوجی تعلیم دے کر ان کی ایک مستقل فوج قائم کی جائے

اورحان غازی کو یہ رائے بڑی پسند آئی اور انہوں نے ایک ہزار عیسائی لڑکوں کو منتخب کر کے ان کو فوجی تعلیم و تربیت دینی شروع کر دی اس طرح ہر سال ہزار لڑکے چنے جاتے اور یہ سلسلہ تین سو برس تک جاری رہا جب کبھی ہزار لڑکوں کی یہ سالانہ تعداد ان لڑکوں سے پوری نہ ہو سکتی جو اس سال کی جنگ میں قیدی ہوئے تھے تو عیسائی رعایا کے لڑکوں سے یہ کمی پوری کر لی جاتی لیکن سلطان محمد رابع کے عہد حکومت میں یہ نظام بدل گیا اس کے بعد انہی سپاہیوں اور ترکوں کے لڑکے اس فوج میں شامل کیے جانے لگے۔

Part 2

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *