Sultan Orhan Gazi | 2nd Sultan of the Ottoman Empire p2

Sultan Orhan Gazi | 2nd Sultan of the Ottoman Empire p2

Sultan Orhan Gazi | 2nd Sultan of the Ottoman Empire p2

اس فوج کا نام ینی چری) یعنی نئی فوج تھا۔) سلطنت عثمانیہ کی ابتدائی تین صدیوں میں جو اس کے عروج و ترقی کا زمانہ تھا۔ ینی چری کی قوت اوج شباب پر تھی۔ اورحان غازی نے تخت نشین ہونے کے بعد اپنی حکومت کے پہلے ہی سال نائیکو میڈیا پر قبضہ کر لیا۔ بروصہ شہر چند مہینے پہلے ہی وہ فتح کر چکے تھے۔ بازنطینی سلطنت کے ایشیائی مقبوضات میں سے اب صرف ایک ہی بڑا شہر نائسیہ رہ گیا تھا۔ جو بازنطینیوں کے لیے بہت ہی اہم شہر تھا۔ اورحان غازی نے اس کا بھی محاصرہ کر لیا۔ اور تیرہ سو تیس عیسوی میں اسے بھی فتح کر کے سلطنت عثمانیہ میں شامل کر لیا۔

تیرہ سو تینتیس عیسوی میں ریاست کراسی کے امیر کا انتقال ہو گیا۔ اس کے انتقال کے بعد اس کے بیٹوں میں خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ اس خانہ جنگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اورحان غازی نے کراسی پر حملہ کیا اور اس کو بھی سلطنت عثمانیہ میں شامل کر لیا۔ اس کے بعد اورحان غازی نے اناطولیہ کے شمال مغربی گوشے کی چند چھوٹی چھوٹی ترکی ریاستوں پر حملے کیے اور انہیں بھی اپنے مقبوضات میں شامل کر لیا کراسی اور دوسری ترکی ریاستوں کی آبادی زیادہ تر ترکوں پر مشتمل تھی لیکن ساحلی علاقوں میں ایک خاصی تعداد یونانیوں کی بھی تھی جنہوں نے بروصہ اور نائسیہ کے اکثر باشندوں کی طرح اسلام قبول کر لیا

ان فتوحات کے بعد تقریبا بیس سال تک کسی جنگ کی نوبت نہیں آئی اور اورحان غازی پوری توجہ کے ساتھ ملکی اور فوجی آئین کی تنظیم تکمیل میں مصروف رہے انہوں نے تمام ملک میں امن و امان قائم کیا اور مسجدیں مدرسے اور رفاہ عامہ کی مختلف شاندار عمارتیں تعمیر کروائیں بروصہ میں ایک نہایت ہی عالی شان مسجد ایک بہت بڑا مدرسہ اور ایک شاہی ہسپتال تعمیر کروایا سلطنت کے اندرونی انتظامات سے فارغ ہو کر اورحان غازی یورپ کی جانب متوجہ ہوئے اور ان کی زندگی کے آخری چند سال بازنطینی سلطنت کے یورپی علاقوں میں قدم جمانے کی کوشش میں صرف ہو گئے

بازنطینی سلطنت اس وقت بہت کمزور ہو چکی تھی۔ اس کے مقبوضات جو صدیوں تک یورپ میں دریائے ڈنیوب اور ایشیا میں اناطولیہ اور شام تک پھیلے ہوئے تھے۔ اب صرف چند شہروں تک محدود رہ گئے تھے۔ ایشیائی مقبوضات تقریبا تمام کے تمام عثمانیوں نے اپنے قبضے میں لے لیے تھے۔ اور یورپ میں بھی سربیا کا با اقتدار فرما روا اسٹیفن جزیرہ نما بلقان کے نصف سے زیادہ علاقے پر اپنا تسلط قائم کر چکا تھا۔ بازنطینی سلطنت کے اندرونی معاملات اور خانہ جنگیوں نے اسے اور بھی زیادہ کمزور کر دیا تھا تیرہ سو اکتالیس عیسوی میں جب شہنشاہ قسطنطنیہ اینڈرونکس سوم کا انتقال ہوا تو قسطنطنیہ کے تخت پر اس کی ملکہ اینا اور اس کا نابالغ بیٹا جون پنجم بیٹھے

کینٹاکوزین اس کے بیٹے کا والی تھا مگر کچھ عرصے کے بعد کینٹا کوزین نے اپنی بادشاہت کا اعلان کر دیا یہ بات ملکہ اینا کو بہت ہی ناگوار گزری اور ان دونوں میں خانہ جنگی شروع ہو گئی اس خانہ جنگی میں تخت حاصل کرنے کے لیے کینٹا کوزین اور ملکہ اینا دونوں نے ہی اورحان غازی سے مدد مانگی لیکن اورحان غازی نے کینٹا کوزین کی مدد کی اور اپنے چھ ہزار ترک سپاہی اس کی مدد کے لیے بھیج دیے کینٹا کوزین نے ترکوں کی مدد سے قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا اور ایک سال بعد قسطنطنیہ میں فاتحانہ طور پر داخل ہوا

ملکہ اینا کو مجبورا کینٹا کوزین سے صلح کرنی پڑی اور صلح اس طرح طے پائی کہ کینٹا کوزین اور اس کی بیوی اور دوسری طرف ملکہ اینا اور اس کا بیٹا چاروں ہی مشترکہ طور پر تخت نشین ہوئے کینٹاکوزین نے ملکہ اینا کے ساتھ اتحاد کو مضبوط کرنے کے لئے اپنی ایک بیٹی کا رشتہ اس کے بیٹے جون پنجم کو دے دیا اور ترکوں کے ساتھ اتحاد کو مضبوط کرنے کے لئے اپنی ایک بیٹی کا رشتہ اورحان غازی کو دے دیا تیرہ سو انچاس عیسوی میں سربیا کے بادشاہ اسٹیفن نے سالونیا پر حملہ کر دیا

سلونیکا پر قبضہ کرنے کے بعد وہ قسطنطنیہ پر حملہ کرنا چاہتا تھا اور اسے یہ یقین تھا کہ اس نازک موقع پر کینٹاکوزین اور ملکہ اینا ترکوں سے مدد مانگیں گے لہذا ایسا ہی ہوا اور کینٹا کوزین اور ملکہ اینا نے اورحان غازی سے مدد مانگی اس مرتبہ اورحان غازی نے بیس ہزار سپاہی روانہ کیے جن کی مدد سے سلونیکا میں اسٹیفن کو شکست ہوئی اور قسطنطنیہ کی فتح کا خیال جو اس کے دل میں بار بار پیدا ہوتا تھا اب کی بار ہمیشہ کے ختم ہو گیا۔

Part 3

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *