Sultan Orhan Gazi | 2nd Sultan of the Ottoman Empire p3

Sultan Orhan Gazi | 2nd Sultan of the Ottoman Empire p3

Sultan Orhan Gazi | 2nd Sultan of the Ottoman Empire p3

اسٹیفن کو شکست دینے کے بعد عثمانی سپاہی واپس بلا لیے گئے۔ مگر چار سال کے بعد اورحان غازی کو اپنی فوجیں ابنائے باز فورس کے مغربی ساحل پر بھیجنے کا ایک اور موقع مل گیا۔ جو یورپ میں عثمانیوں کے قدم جمانے کا سبب ثابت ہوا۔ وہ اس طرح کے کینٹا کوزین تخت و تاج میں زیادہ دیر تک ملکہ اینا اور اس کے بیٹے جان پنجم کو برداشت نہ کر سکا۔ اور تیرہ سو ترپن عیسوی میں اس نے حکومت کے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لینے چاہے۔ لیکن جان پنجم کی شدید مخالفت کی وجہ سے خانہ جنگی شروع ہوگئی۔

کینٹا کوزین نے حسب دستور اورحان غازی سے پھر مدد مانگی۔ اور اس کے معاوضے میں یورپی ساحل پر ایک قلعے کی پیشکش کی۔ اورحان غازی نے اپنے بڑے بیٹے سلیمان پاشا کی سرکردگی میں بیس ہزار سپاہی روانہ کیے۔ جن کی مدد سے کینٹا کوزین نے جان پنجم کو شکست دی اور قسطنطنیہ کے تخت پر قبضہ جما لیا۔ سلیمان پاشا نے حسب معاہدہ قلعہ تزئنپ(Cimpe) پر قبضہ کر کے عثمانی دستے متعین کر دیے۔ اس کے چند ہی دنوں بعد تھریس میں زلزلہ آیا جس سے بہت سارے شہروں کو نقصان ہوا اور ان کی دیواریں گر گئیں۔

اس موقع سے فائدہ اٹھا کر سلیمان پاشا نے آگے بڑھ کر گیلی پولی ( Gallipoli )کے قلعے پر قبضہ جما لیا۔ اس کے بعد انہوں نے تھریس کے چند مقامات اور فتح کیے اور بہت سے ترکوں اور عربوں کو لا کر ان مقبوضات میں آباد کر دیا۔ گیلی پولی کی فتح سے ترکوں کی تاریخ کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ تیرہ سو ترپن عیسوی میں انہوں نے پہلی بار فاتح کی حیثیت سے یورپ میں قدم رکھا۔ اور مسیحی یورپ میں ایک عظیم الشان اسلامی سلطنت کی بنیاد ڈالی۔ جو دو صدیوں کے اندر اندر گیلی پولی سے ویانہ کی دیواروں تک پھیل گئی۔ ان واقعات سے کینٹا کوزین کے خلاف قسطنطنیہ میں سخت برہمی پھیلی۔

جس نے بغاوت اور انقلاب کی شکل اختیار کر لی۔ ہر کوئی کینٹا کوزین پر غداری وطن کا الزام عائد کرتا تھا اور اسی کو ترکوں کو یورپ میں لانے کا ذمہ دار ٹھہراتا تھا آخر رائے عامہ سے مجبور ہو کر اسے تخت و تاج سے دستبردار ہونا پڑا اور اس کے بعد جان پنجم تخت نشین ہوا جان پنجم نے پچاس سال تک حکومت کی لیکن اس طویل مدت میں سلطنت کی حالت روز بروز خراب ہوتی چلی گئی اور ترکوں کا تسلط بڑھتا ہی گیا جان پنجم کے تخت نشین ہونے کے بعد بھی ترکوں نے اپنی فتوحات کا سلسلہ جاری رکھا اور بازنطینیوں سے کئی قلعے چھین لیے

آخر کار شہنشاہ قسطنطنیہ کو مجبورا اورحان غازی سے صلح کر کے ان تمام مقبوضات کو تسلیم کرنا پڑا اس کے بعد بازنطینی سلطنت گویا دولت عثمانیہ کی ایک باجگزار حکومت بن کر رہ گئی اورحان غازی نے تقریبا تینتیس سال حکومت کی ان کے دور حکومت میں عثمانی سلطنت کو بہت زیادہ وسعت ملی۔ انہوں نے نہ صرف ایشیائے کوچک کے بقیہ بازنطینی علاقے فتح کیے بلکہ بعد ترکی ریاستوں کو بھی عثمانیہ سلطنت میں شامل کیا۔ انہوں نے یورپ میں داخل ہو کر تھریس کا ایک حصہ بھی فتح کر لیا۔ جو اس براعظم میں عثمانی فتوحات کا شاندار آغاز تھا۔

جن فوجی اور ملکی آئین پر سلطنت عثمانیہ کی عظمت قائم ہوئی۔ اس کی بنیاد انہوں نے اپنے ہاتھوں سے رکھی تھی۔ عثمان غازی کی حیثیت ایک امیر سے زیادہ نہیں تھی۔ لیکن اورحان غازی کے کارناموں نے اسے بادشاہی کا حقدار ثابت کر دیا تھا۔ تیرہ سو اٹھاون عیسوی میں اورحان غازی کا بیٹا سلیمان پاشا شکار کھیلتے ہوئے گھوڑے سے گرا اور وفات پا گیا۔ سلیمان پاشا اورحان غازی کا جانشین بھی تھا۔ اور وہ اس سے بہت زیادہ پیار کرتے تھے۔ اورحان غازی سلیمان پاشا کی وفات کا صدمہ برداشت نہ کر سکے اور دوسرے ہی سال انتقال کر گئے.

Part 3

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *